Roznama Nasar

Khabroon ki Duniya

Politics

پاکستان اسلامک ریپبلکن پارٹی صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی کام سے ملک کی خدمت کرے گی۔ اظہر محمود ا یسا نظام متعارف کروائیں گے جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات اور عدل کے اصولوں کے مطابق کام ہو گھر کے دروازے علاقے کے عوام کے لیے ہر وقت کھلے ہیں، اپنے علاقے کی خدمت ہی اوڑھنا بچھونا ہے۔

راولپنڈی( روزنامہ نصر) راولپنڈی کا علاقہ سیاسی حوالے سے خاصا اہم ہے اور یہاں سے بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے کئی سیاسی پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور علاقے کے عوام کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دیے انہی شخصیات میں عوامی اور ملکی خدمت کے جذبے سے سر شار شخصیت اظہر محمود بھی ہیں جنہوں نے بطور چیئرمین پاکستان اسلامک ریپبلیکن پارٹی کے نام سے ایک سیاسی پارٹی متعارف کروائی ۔روزنامہ نصر نے ایک خصوصی نشست میں اظہر محمود سے خصوصی گفتگو کی ۔ اس سوال پر کہ سیاسی سفر کیسے شروع کیا کے جواب میں کہا کہ پاکستان اسلامک ریپبلیکن پارٹی کے نام سے ایک پارٹی کی بنیاد رکھی کہ یہ جماعت عوامی خدمت کو اپنی بنیادی ترجیح بنائے گی اور انشاء اللہ ہم جلد عوام کے تعاون سے اس بات کو حقیقت کا روپ دے دیں گے ۔ اس سوال پر کہ آپ کی پارٹی کا منشور کیا ہے کے جواب میں اظہر محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلامک ریپبلیکن پارٹی کے منشور کا منشاء ہے کہ ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مملکت اپنے اختیار و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی کہ جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات اور عدل کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے پر پوری طرح عمل کیا جائے ، جہاں مسلمان اپنی زندگی اسلامی تعلیمات جبکہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھ سکیں۔ اس سوال پر کہ آپ کی پارٹی کے منشور کے اہم نکات کیا کیا ہیں؟ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے منشور کے اہم نکات یہ ہیں 1 ۔تعلیم 2 ۔عوام کے لیے حکومتی معاونت 3 ۔غربت میں کمی 4۔ صحت 5۔ روزگار میں اضافہ 6۔ انسانی وسائل 7۔ پانی کا نظام 8۔ مواصلاتی نظام 9۔ معیشت 10۔ ملکی تعمیر و ترقی 11۔ توانائی 12۔زراعت 13۔ذرائع ابلاغ 14۔معاشرے میں اتحاد 15۔دفاع 16۔کسٹم اور ٹیکس سسٹم
17۔ ٹرانسپورٹ کا معیاری نظام 18۔ رفاحی اداروں کا قیام ، اس کے ساتھ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت ہمارا طرزِ عمل رہے گا، جس کے لیے ہم کوشاں رہیں گے، عمدہ سیاست اہل شعور سے ہے ہم اہلِ علم و شعور کو موقع فراہم کریں گے، صرف اچھا سماج ہی ملک کے بہتر مستقبل کا ضامن ہو سکتا ہے ، لہذا پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کے روزمرہ کے مسائل پر تفصیلی غورو فکر کرنے کے بعد ہماری پارٹی معاشرے میں ایک اندرونی تبدیلی کی خواہاں ہے۔ عوام ہی ملک کی صحیح اور اصل طاقت ہیں پارٹی ہنر مند لوگ متعارف کروائے گی۔ تعلیم انسان کو طاقت ور بناتی ہے ہماری پارٹی ہر شخص کو اس کی ذہنی صلاحیت کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کی سہولیت مہیا کرے گی۔ ہماری پارٹی ایسی شہریت کی قائل ہے جہاں سب افراد کے حقوق برابر ہوں اور محض پاکستان کی خیر خواہی مقصود ہو۔ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے جس میں کسی بیرونی مداخلت کا جواز نہیں، ہماری پارٹی کی خارجہ پالیسی بیرونی ممالک کے ویزوں کے حصول میں آسانی پیدا کرے گی۔ پاکستان کی ترقی کے لیے تمام ضروریات کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق شناخت کر کے مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی، شدت پسندی کو معاشرتی تبدیلی کے ذریعہ سے ختم کیا جائے گا۔ ہماری پارٹی معاشی بحالی کی خواہاں ہے، ہم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک تجارت کو فروغ دیں گے۔ پاکستان ایک ذرعی ملک ہے جو خوراک میں خود کفیل ہو سکتا ہے ہم ایسی ذرعی پالیسی بنائیں گے جو ملک کو خوراک میں خود کفیل ہونے میں مدد دے۔ہماری پارٹی ملک میں تعلیم و تربیت اور روزگار کے فقدان کی وجوہات و اسباب پر تحقیق کرے گی تاکہ انہیں عوام کے لیے مہیا کرے۔ ہم ماحولیاتی آلودگی کو کم کریں گے اور شجر کاری بڑھائیں گے نیز ہماری ہر پالیسی میں ماحول پر اثر کو ملحوظ رکھا جائے گا۔اس سوال پر کہ ایک نئی سیاسی جماعت متعارف کروا کر کیا کیا مشکلات پیش آئیں کے جواب میں کہا کہ میں چونکہ خود ایک سماجی کارکن تھا اور اللہ کے فضل سے علاقے کے عوام میں ایک مقام اور حلقہ احباب بھی تھا تو سمجھا کہ ملک کے عوام بہت ساری پارٹیوں کے کاغذی وعدوں سے تنگ آ گئے ہیں لہذا انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم دیا جائے جو ان کے تحفظ کا باعث ہونے کے ساتھ ان میں اعتماد بھی قائم کرے لیکن اس مثال کے مصداق کہ کنارے سے پانی کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا جب تک پانی کے اندر نہ اترا جائے یہی وجہ ہے کہ جب پانی میں اترا تو گہرائی کا اندازہ ہوا کہ اس ملک میں پارٹیاں ایک سیاسی مافیا بن چکی ہیں جن کے درمیان اپنا راستہ بنانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا جوئے شیر لانا لیکن ہم نے نہ کل ہمت ہاری اور نہ انشاء اللہ مستقبل میں ہمت ہاریں گے ، اور آج انشاء اللہ تعالی ایک سیاسی پلیٹ فارم عوام کی خدمت کے لیے فزیکلی نہ صرف موجود ہے بلکہ عوامی خدمت کربھی رہا ہے ۔ اس سوال کے جواب کہ آپ نے کہا کہ ہم مساوات، رواداری اور عدل کے اصولوں پر اس طرح عمل کریں جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے اس بارے میں کیا کہیں گے کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگیاں اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انہیں ایسی سہولیات مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ جس کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں مزید یہ کہ ہماری پارٹی پاکستان کے مسلمانوں کی سہولت کے لیے قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم لازمی قرار دینا، عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لیے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا، اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینا، زکوۃ (عشر) اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا، کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے والے کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی تقریب میں حصہ لینے یا مذہبی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اگر ایسی تعلیم، تقریب یا عباد ت کا تعلق اس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے ہو ۔ اس سوال کے جواب میں کہ آپ کی پارٹی کے منشور میں اقلیتوں کے تحفط کے بارے میں کیا کیا ہے ؟کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات(جن میں وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں ان کی مناسب نمائندگی شامل ہے) کا تحفظ کرے گی اور معاشرتی انصاف کا فروغ اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ شامل ہے اس سوال کے جواب میں کہ معاشرے سے برائیوں کے خاتمے اور نوجوانوں کو ان برائیوں سے دور رکھنے کے لیے آپ کی پارٹی کیا اقدامات کرے گی ؟ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم معاشرے سے عصمت فروشی، قمار بازی اور ضرر رساں ادویات کے استعمال، فحش لٹریچر، ادب اور اشتہارات کی طباعت ، نشرو اشاعت اور نمائش کی روک تھام کریں گے، نوجوانوں کو ان تما م معاشرتی برائیوں سے بچانے کے لیے نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کا فروغ، کھیلوں کے میدان اور فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم کو عام اور اعلی تعلیم کو ہر نوجوان کی لیاقت کی بنیاد پر سب کے لیے مساوی طور پر قابل دسترس بنائے گی۔ عام آدمی کو کیا سہولیات مہیا کریں گے ؟ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کر کے دولت اور وسائل کی پیداوار اور تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں جمع ہونے سے روک کر اس کو مفادِ عامہ کے زیرِ استعمال لانے کی قابل عمل پالیسی بنائیں گے تاکہ دولت کی گردش ہر آدمی کی پہنچ سے دور نہ ہو۔ اس کے علاوہ وہ تمام شہری جو بیماری اور بے روزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طور پراپنی روزی نہ کما سکتے ہوں بلا لحاظ جنس، ذات، مذہب یا نسل بنیادی ضروریات مہیا کرے گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ آپ کی پارٹی عالم اسلام سے رشتے استوار کرنے اور بین الاقوامی امن کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کرے گی؟ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی اس با ت کی کوشش کرے گی کہ اسلامی اتحاد کی بنیاد پر مسلم ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھا جائے اور مستحکم کیا جائے ، تمام قوموں کے مابین خیر سگالی اور دوستانہ تعلقات استوار کیے جائیں اور بین الاقوامی تنازعات کو پُر امن طریقوں سے طے کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس سوال کے جواب میں پارٹی کے منشور کے علاوہ آپ کا اپنا ذاتی منشور کیا ہے اور عوام کے نام پیغام میں کیا کہیں گے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایک عوامی آدمی ہوں اور عوامی خدمت ہی منشور ہے ۔ میرے دروازے اپنے علاقے کے عوام کے لیے بالخصوص اور باقی عوام کے لیے بالعموم ہر وقت کھلے ہیں ، عوام کے نام پیغام یہ ہے کہ اب نعروں والی سیاست کام نہیں آتی بلکہ عوامی خدمت ہی آپ کو ترقی، امن اور خوشحالی دے سکتی ہے لہذا یہ آپ کا اپنا پلیٹ فارم ہے اس پر اعتماد کریں ہم آپ کے اعتمادپر پورا اتریں گے اور آپ کی توقعات پر انشاء اللہ پوار اترنے کی کوشش کریں گے۔

Damages have not been awarded in the latter go to company case, but they may exceed more than $800 million.

LEAVE A RESPONSE

Your email address will not be published. Required fields are marked *